لوگوں کی جانیں بچانا اور ان کی حفاظت کرنا دہشتگردوں کو قتل کرنے سے افضل ہے


 

نماز جمعہ 26شوال مورخہ 21 جولائی 2017 مرجع اعلی کے نمائندہ اور روضہ مقدس حضرت عباس (علیہ السلام) کے متولّی نے اپنے دوسرے خطبے میں بیان کرتے ہیں:

ہم آج کل اپنی مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی خوشی منا رہے ہیں جس پر داعش دہشت گردوں نے 3 سال تک قبضہ کیا ہوا تھا، تمام شعبوں اور متعدد نوعیت کے مجاہد بھائیوں کی بدولت یہ جیت حاصل ہوئی ہے، ہم اس سلسلے میں تین امور پر روشنی ڈالنے چاہتے ہیں: ۔

اوّل :

ہماری جیت تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ عراق کی پوری سرزمین کو داعش سے آزاد نہیں کرائی جاتی، یہ ممکن تب ہے جب ہمارے جذبہ جہاد اسی طرح بر قرار رہے جس طرح کہ یہ جذبہ ابھی پایا جاتا ہے، خبردار پھر خبردار کرتا ہوں کہ یہ ہمّت اور پرعزمی میں کمی نہ آنا پائے، اور برقراری کا ابھی وقت نہیں ہے جبکہ ہمارے بعض علاقے داعش کے قبضے میں ہیں۔

دوّم :

بے گناہ جانوں کی حفاظت سب پر مقدّم ہے جس میں بچے، خواتین اور بھوڑے حضرات  شامل ہیں۔

ہم جس طرح یہ پہلے دنوں میں بیان کر چکے تھے کہ لوگوں کی جانیں بچانا اور ان کی حفاظت کرنا دہشتگردوں کو قتل کرنے سے افضل ہے، لہذا غیرت مند مجاہدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ گذشتہ میدانی جنگوں میں جس طرح انھوں نے انتھک جد وجہد کرکے دشمنوں کے ڈھال کے طور پر لوگوں کو استعمال کے با وجود عام لوگوں کی حفاظت کیں، کرتے رہے۔

 دوسری جانب سے جنگی قیدیوں سے اچھا سلوک کی جا‏ئے، اور ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے کیونکہ شرعی اور قانونی لحاظ سے یہ ایک جرم ہے اور یہ شہداء کی قربانیوں سے بد سلوکی کی مانند ہوتی ہے، بلکہ ایسے اشخاص کے خلاف جو قیدیوں سے بدسلوکی کرتے ہوئے پائے جائے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہئیے۔  

 سوّم :

جو جنگی جیت اور غلبہ رونما ہوئے اور اللہ تعالی کے اذن سے ہونے والے ہیں ان سب کے پیچھے وہ شہداء کے جانیں ہیں جنھوں نے وطن، زمین اور مقدسات کی عظمت، رفعت اور پائیداری کے لئے قربان کردئیے، اور ابھی بھی قربانی کے لئے جانوں کی ارزانی کے لئے لوگ تیار ہیں، تو یہاں پر کہنا بہت ضروری سمجھتاہوں کہ ارواح شہداء اور زخمی حضرات انتظار کر رہے ہیں کہ متعلقہ ادارے ان سے وفا کرے اور ان کے پسماندگانوں،  یتیموں اور ان کے خاندانوں کی طرف توجہ دے اور مزید رعایت، دیکھ بال اور ان کی ضروریات پوری کیں جائے بالخصوص جنگی زخمی حضرات جو حقیقت میں زندہ شہداء ہیں ان کو مزید رعایت، دیکھ بال کی جائے اور ان کی بہتر صحت اور طبّی ضروریات مہیا کیے جائے اور ان کو دوبارہ قابل بنانے کے لئے سینٹرز کھولے جائے۔

 

 

تبصرے
کوڈ کی تبدیل
تبصرے فیس بک
تازہ ترین اضافے
فیس بک